100 Most Famous Ghazals Of All Time Part 7 |Poetry|Love Shayari || Sad Poetry Sad || Shayari In Urdu


چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو شہر کے شہر کو مرا واقف حال کر دیا چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی کبھی سمت غیب سیں کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا مگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہو سو ہری رہی نظر تغافل یار کا گلہ کس زباں سیں بیاں کروں کہ شراب صد قدح آرزو خم دل میں تھی سو بھری رہی وو عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا کہ کتاب عقل کی طاق پر جوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی ترے جوش حیرت حسن کا اثر اس قدر سیں یہاں ہوا کہ نہ آئینہ میں رہی جلا نہ پری کوں جلوہ گری رہی کیا خاک آتش عشق نے دل بے نوائے سراجؔ کوں نہ خطر رہا نہ حذر رہا مگر ایک بے خطری رہی خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی لہو میں ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسی نہ شب کو چاند ہی اچھا نہ دن کو مہر اچھا یہ ہم پہ بیت رہی ہیں قیامتیں کیسی وہ ساتھ تھا تو خدا بھی تھا مہرباں کیا کیا بچھڑ گیا تو ہوئی ہیں عداوتیں کیسی عذاب جن کا تبسم ثواب جن کی نگاہ کھنچی ہوئی ہیں پس جاں یہ صورتیں کیسی ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی جو بے خبر کوئی گزرا تو یہ صدا دے دی میں سنگ راہ ہوں مجھ پر عنایتیں کیسی نہیں کہ حسن ہی نیرنگیوں میں طاق نہیں جنوں بھی کھیل رہا ہے سیاستیں کیسی نہ صاحبان جنوں ہیں نہ اہل کشف و کمال ہمارے عہد میں آئیں کثافتیں کیسی جو ابر ہے وہی اب سنگ و خشت لاتا ہے فضا یہ ہو تو دلوں میں نزاکتیں کیسی یہ دور بے ہنراں ہے بچا رکھو خود کو یہاں صداقتیں کیسی کرامتیں کیسی خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی لہو میں ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسی دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی یہ صبر کا مقام ہے گریہ نہ کر ابھی جس کی سخاوتوں کی زمانے میں دھوم ہے وہ ہاتھ سو گیا ہے تقاضا نہ کر ابھی نظریں جلا کے دیکھ مناظر کی آگ میں اسرار کائنات سے پردا نہ کر ابھی یہ خامشی کا زہر نسوں میں اتر نہ جائے آواز کی شکست گوارا نہ کر ابھی دنیا پہ اپنے علم کی پرچھائیاں نہ ڈال اے روشنی فروش اندھیرا نہ کر ابھی دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی یہ صبر کا مقام ہے گریہ نہ کر ابھی دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تری یاد تھی اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست تو مصیبت میں عجب یاد آیا دن گزارا تھا بڑی مشکل سے پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا تیرا بھولا ہوا پیمان وفا مر رہیں گے اگر اب یاد آیا پھر کئی لوگ نظر سے گزرے پھر کوئی شہر طرب یاد آیا حال دل ہم بھی سناتے لیکن جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔ ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

1 thought on “100 Most Famous Ghazals Of All Time Part 7 |Poetry|Love Shayari || Sad Poetry Sad || Shayari In Urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *